پٹنہ،30؍ نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بہار کے مظفر پور کے ایک اسپتال میں علاج کرانے آئی سیتامڑھی جیل کی خواتین قیدی سے اجتماعی عصمت دری کے معاملے نے اب طول پکڑ لیا ہے۔بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے مظفر پور کے اسپتال میں خواتین قیدی سے عصمت دری کے معاملے پر نتیش کمار پر حملہ بولا ہے اور اس کا الزام بہار پولیس کے دو پولیس اہلکاروں پر لگایا ہے۔دراصل سیتامڑھی جیل کی ایک خاتون قیدی کے ساتھ 14 نومبر کی رات مظفر پور واقع شری کرشن میڈیکل کالج اوراسپتال (ایس کے ایم اسی ایچ) کے واش روم میں دو قیدیوں نے عصمت دری کی۔خواتین قیدی کو 11 نومبر کو علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا تھا۔حالانکہ بتایا جا رہا ہے کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہے۔ تیجسوی یادو نے نتیش کمار پر حملہ بولا انہوں نے کہا کہ مظفر پور کے اسپتال میں زیر علاج خاتون قیدی کے ساتھ نتیش جی کے دو پولیس اہلکاروں نے عصمت دری کی۔اب بہار میں پولیس اہلکار قیدخانہ میں ہی عصمت دری کر رہے ہیں۔یہی ہے نتیش جی گڈ گورننس۔ ایک اور ٹویٹ میں تیجسوی یادو نے کہا کہ ادارہ اجتماعی عصمت دری اور بلاتکاری کو تحفظ کو فروغ دینے کی کیٹیگری میں وزیر اعلی نتیش کمار کو بہترین کارکردگی کا ایوارڈ جاتا ہے۔بتا دیں کہ یہ واقعہ مظفر پور کے شری کرشن میڈیکل کالج اوراسپتال ہے۔ دراصل مظفر پور واقع شری کرشن میڈیکل کالج اوراسپتال نارتھ بہار کا سب سے بڑا اسپتال ہے اور یہاں مظفر پور سے ملحق کئی اضلاع کے مریض اپنا علاج کروانے آتے ہیں۔